27 اپریل 2013 - 19:30
ترکی نے دہشت گردوں کو کیمیاوی ہتھیار دیئے/ دہشت گردوں کا نیا کیمیاوی حملہ ناکام

شامی وزیراطلاعات نے کہا ہے کہ ترکی نے حکومت شام کے خلاف برسرپیکار مسلح دہشت گردوں کو کیمیاوی ہتھیار دیئے ہیں اور انھوں نے یہ ہتھیار شام کے خلاف استعمال کئے ہیں/ شامی افواج نے دہشت گردوں کا کیمیاوی حملہ ناکام بنایا / الزعبی: امریکی شامی افواج کی کامیابیوں کی وجہ سے سیخ پا ہے۔

اہل البیت (ع) خبر ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شام کے وزیر اطلاعات عمران الزعبی نے کہا کہ حلب کے نواحی علاقے "خان العسل" میں دہشت گردوں نے ترک حکومت کے دیئے ہوئے کیمیاوی ہتھیار استعمال کئے ہیں۔انھوں نے کہا: کیمیاوی ہتھیاروں کا حامل میزائل ترک سرحد کے قریب دہشت گردوں کے ٹھکانے سے حلب کے نواحی علاقے "خان العسل" پر داغا گیا ہے۔انھوں نے کہا: روسی ماہرین نے دہشت گردوں کے استعمال کردہ کیمیاوی ہتھیاروں کے بارے میں تحقیق کی پیشکش کی تھی جس سے حکومت شام نے اتفاق کیا ہے اور اسی حوالے سے ایک درخواست بھی دی ہے۔ الزعبی نے کہا: امریکہ، برطانیہ اور مغرب نے دعوی کیا ہے کہ حکومت شام کیمیاوی ہتھیار استعمال کررہی ہے جو نہایت بے بنیاد اور شرمناک دعوی ہے اور یہ دعوی ایسے ممالک کی طرف سے سامنے آرہا ہے جو خود دہشت گردوں کو کیمیاوی ہتھیاروں سمیت دیگر ہتھیار فراہم کررہے ہیں اور خان العسل پر بھی کیمیاوی حملے کے ذمہ دار ہیں اور اب ان دعؤوں کی آڑ لے کر اس دھبے کو صاف کرنا چاہتے ہیں۔ الزعبی نے کہا: دنیا بھر میں ہونے والے تمام بڑی دہشت گرد حملوں میں امریکہ ملوث ہے اور چونکہ وہ شام میں ہونے والی دہشت گردی پر خاموش ہے اور قطر اور آل سعود سمیت خلیج فارس کی ریاستوں اور ترکی کی طرف سے مسلح دہشت گردوں کی مالی اور عسکری امداد کی پشت پناہی کررہا ہے لہذا وہ شام کے خلاف ہونے والی دہشت گردی میں بھی پورا پورا ملوث ہے۔ الزعبی نے مزید کہا: امریکہ نے عراق پر بھی ایٹمی اور کیمیاوی ہتھیار کے ذخائر کا الزام لگایا اور پھر اس پر حملہ کررہا اور اب وہ شام کے خلاف بھی وہی منظرنامہ دہرانا چاہتا ہے۔ ادھر شامی فوج نے لاذقیہ پر دہشت گردوں کا کیمیاوی حملہ ناکام بنایا ہےلاذقیہ کے قریب "نبی یونس" نامی پہاڑ کے دامن میں دہشت گردوں نے کیمیاوی ہتھیاروں سے لیس ہوکر فوج پر حملے کی کوشش کی جس کو شامی افواج اور قومی دفاع کی فورسز نے ناکام بناکر درجنوں دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔ شام کے شمال مغربی شہر لاذقیہ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق شامی فوج اور قومی فورسز گذشتہ ایک سال کے عرصے سے نبی یونس نامی اہم سوق الجیشی پہاڑ پر موجود ٹھکانوں میں تعینات ہیں اور اس عرصے کے دوران دہشت گردوں کے متعدد حملوں کو ناکام بنا چکے ہیں۔ شامی فورسز نے کیمیاوی ہتھیاروں کے حملے کی کوشش کرنے والے دہشت گردوں کا حملہ بناتے ہوئے درجنوں دہشت گردوں کو ہلاک کردیا اور بڑی مقدار میں ہتیھاروں اور گولہ بارود پر قبضہ کیا۔ دہشت گردوں سے برآمد ہونے والے ہتھیاروں اور سازوسامان میں مختلف قسم کی بارودی سرنگیں اور بیرونی ساختہ گولہ بارود اور اشیاء خورد و نوش شامل ہیں جبکہ ان سے کیمیاوی ہتھیاروں سے بچنے کے لئے استعمال ہونے والے ماسک بھی برآمد ہوئے ہیں۔علاقے میں موجود فوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشت گرد اس علاقے میں ایک محدود کیمیاوی حملے کے لئے تیاری کررہے تھے اور خود کیمیاوی ہتھیاروں کے اثرات سے بچنے کے لئے متعلقہ وسائل سے لیس تھے۔ اطلاعات کے مطابق نبی یونس کی چوٹیوں پر حملوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے لیکن اس بار یہ حملہ بہت شدید تھا۔نبی یونس میں متعین ایک شامی افسر نے العالم کو بتایا: امریکہ، فرانس اور برطانیہ کی طرف سے دہشت گردوں کے خلاف شامی افواج کے مبینہ حملوں کے دعوے کی حقیقت یہیں سے کھل کر سامنے آتی ہے کہ اس حملے میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں سے مختلف قسم کے ہینڈ گرینیڈ اور گولے برآمد ہوئے ہیں جن کی شکل و صورت بھی روایتی ہتھیاروں سے مختلف ہے اور یہ گولے اور دستی بم کیمیاوی مواد کے حامل ہوسکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ ہتھیار مزید تحقیق کے لئے متعلقہ تجربہ گاہوں میں بھجوائے گئے ہیں۔ ادھر شامی وزیر اطلاعات نے کہا ہے کہ شامی افواج کی کامیابیوں نے امریکہ کو پریشان کردیا ہے۔عمران الزعبی نے کہا کہ امریکہ کا غیر سنجیدہ اور عجلت زدہ موقف اور شام پر کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کا الزام دہشت گردوں کے خلاف شامی افواج کی عظیم کامیابیوں کی وجہ سے سامنے آیا ہے۔الزعبی نے کل بروز ہفتہ ماسکو میں رشین فیڈریشن کونسل کے نائب سربراہ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: دنیا کے 29 ممالک سے آئے ہوئے دہشت گرد شامی قوم اور حکومت کے خلاف دہشت گردانہ جنگ لڑ رہے ہیں اور شام میں حکومت اور عوام کے خلاف برسرپیکار دہشت گرد کرائے کے بیرونی ایجنٹ ہیں جو نہ صرف شام کے پڑوسی ممالک سے بلکہ یورپ، آسٹریلیا اور برطانیہ سے شام منتقل کئے گئے ہیں۔ادھر روسی وفاقی کونسل کے نائب سربراہ الیاس اوماخانوف نے کہا ہے کہ شام کے مسئلے میں ہمارا اصولی موقف ثابت ہے جو کبھی تبدیل نہ ہوگا اور ہم شامی حکومت اور عوام کو ان مصائب میں تنہا نہ چھوڑیں گے اور شامی عوام کو کسی قسم کی بیرونی مداخلت کے بغیر اپنے مسائل خود حل کرنے چاہئے۔

 ...........

/*